ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
نرگس ہزاروں سال اپنی بے نوری پر روتی ہے، تب جا کر چمن میں کوئی دیدہ ور پیدا ہوتا ہے۔
— علامہ اقبال اردو اور پشتو کلام، مفہوم کے ساتھ۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے
بول زباں اب تک تیری ہے
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
اہم مقامی خبریں، تقریبات اور داخلے — صبح 7 بجے ایک مختصر ای میل۔